نیند آنکھوں میں مسلسل نہیں ہونے دیتا

نیند آنکھوں میں مسلسل نہیں ہونے دیتا

وہ میرے خواب مکمل نہیں ہوتے دیتا

آنکھ کے شیش محل سے وہ کسی بھی لمحے

اپنی تصویر کو اوجھل نہیں ہونے دیتا

رابطہ بھی نہیں رکھتا ہے سرِ وصل کوئی

اور تعلق بھی معطل نہیں ہونے دیتا

دل تو کہتا ہے اُسے لوٹ کے آنا ہے یہیں

یہ دلاسہ مجھے پاگل نہیں ہونے دیتا

وہ جو اک شہر ہے پانی کے کنارے آباد

اپنی اطراف میں دلدل نہیں ہونے دیتا

قریہ جاں پہ کبھی ٹوٹ کے برسیں روحی

ظرف اشکوں کو وہ بادل نہیں ہونے دیتا

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

وہ شخص پھر سے مرے رابطے میں آ جائے

اسے کرید رہا ہوں طرح طرح سے

کہ وہ جہت جہت سے مرے جائزے میں آ جائے

کمال جب ہے کہ سنورے وہ اپنے درپن میں

اور اس کا عکس مرے آئینے میں آ جائے

کیا ہے ترک- تعلق تو مڑ کے دیکھنا

کیا کہیں نہ فرق ترے فیصلے میں آ جائے

دماغ اہل- محبت کا ساتھ دیتا نہیں اسے کہو

کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے

وہ میری راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھا ہو

یہ واقعہ بھی کبھی دیکھنے میں آ جائے

وہ ماہتاب- زمانہ ہے، لوگ کہتے ہیں

تو اس کا نور مرے شب کدے میں آ جائے

بس اک فراغ بچا ہے جنوں پسند

یہاں کہو کہ وہ بھی مرے قافلے میں آ جائے

Aao kabhi seene se lagaon tm ko

“Aao kabhi seene se lagaon tm ko” “Rutho jo mjhse to manaon tm ko” “Mri bahon mein neend aa jae tmhe” “Phr khud hi pyar se jgaon tm ko” “Tm hmesha k liye bs mry ho jao” “Aisa taveez pilaon tm ko” “Is andaz se tm mri jan mango” “Mein inkar na kr paon tm ko” “Apni aankh ka TAARA,ya CHAND kahun” “khud hi batao kis nam se bulaon tm ko” “Tm mre dil ki dharkan ban gaye ho”” “Phr batao kis tarah bhool jaon tm ko…

​Khoobsorat Waadon Ko Torr Diya TUM NEY

​Khoobsorat Waadon Ko Torr Diya 

“TUM NEY”,
Mujhey Yaad Rakhna Ab Chorr Diya 

“TUM NEY”,
Bohat Kiya Kartey They “TUM” Wafa Ki Baatein,
Lagta Hey Wafa Ka Daaman Chorr Diya 

“TUM NEY”,
“TUM” Kehtey They K “TUM” Bin G Nahi Saktey,
Lagta Hey Merey Bin Jeena Seekh Liya  “TUM NEY”,
“TUM KO” Zamaney Sey Fursat Nahi,
         “jana wafa”
Ab To Haal Poochna Bhi Chorr Diya

“TUM NEY”.

Posted in urdu ghazal

میرے ساتھ تم بھی دعا کرو

​میرے ساتھ تم بھی دعا کرو ، یوں کسی کے حق میں برا نہ ہو

کہیں اور ہو نہ یہ حادثہ ، کوئی راستے میں جدا نہ ہو
میرے گھر سے راستے کی سیج تک ، وہ اک آنسو کی لکیر ہے

ذرا بڑھ کے چاند سے پوچھنا ، وہ اسی طرف سے گیا نہ ہو
سر شام ٹھری ہوئی زمیں ، آسماں ہے جھکا ہوا

اسی موڑ پر مرے واسطے ، وہ چراغ لے کر کھڑا نہ ہو
وہ فرشتے آپ ہی ڈھونڈیئے ، کہانیوں کی کتاب میں

جو برا کہیں نہ برا سنیں ، کوئی شخص ان سے خفا نہ ہو


وہ وصال ہو کہ فراق ہو ، تری آگ مہکے گی ایک دن

وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو
مجھے یوں لگا کے خاموش خوشبو کے ہونٹ تتلی نے چھو لیے

انہی زرد پتوں کی اوٹ میں کوئی پھول سویا ہوا نہ ہو
اسی احتیاط میں میں رہا اسی احتیاط میں وہ رہا

وہ کہاں کہاں میرے ساتھ ہے ، کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو