Posted in Uncategorized

نند سے دوستی کریں لڑائی نہیں

ند شوہر کی بہن کو کہتے ہیں چوٹی ہو یا بڑی اس سے فرق نہیں پڑتا اگر پڑتا ہے تو اس چیز سے آپ کا ان کے ساتھ رشتہ کیسا ہے؟ دوستی کا یا دشمنی کا۔

یہ ساس بہواور بھابھی نند کے جھگڑوں کی روایت کئی سالوں سی چلتی آرہی ہے پر ضروری نہیں کہ اس کو بدلہ نا جائے۔ جہاں ساس ماں بن سکتی ہے وہاں نند بہن بھی بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اس لیے کم از کم محبت بانٹنے میں پہل ضرور کریں اور نند سے دوستی کریں لڑائی نہیں۔

گھر کو گھر ہی رہنے دیں اکھاڑا مت بنائیں۔ نند بڑی ہو تو سن لیں اور چھوٹی ہو تو ضرورت سے زیادہ مت سنائیں۔

( ایسے کون ہاتھ ملاتا ہے بھائی ؟ )

کبھی کبھار اگر صورتحال ناساز ہو بھی جائے تو روٹھے ہوئے کو منانے سے آپ کا کچھ نہیں جائے گا الٹا بات بڑھ گئی تو ساس بھی گلے پڑسکتی ہے۔

(ارے ارے۔۔۔ ایک منٹ! میری بات تو سن لیں )

میکے میں جس بہن کو چھوڑا تھا اسی کا دوسرا روپ سسرال میں نند کی شکل میں ملے تو اسے بھی وہی پیار دیں اور وہ بھی اتنا ہی پایر کرے گی۔ آخر اس نے بھی ایک نا ایک دن چلی جانا ہے۔

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s