Posted in Uncategorized

دسمبر کی بارش

یوں تو بارش اپنے ساتھ ایک خوشگوار احساس لاتی ہے۔ سخت گرمیوں میں بارش کی آمد ایک رحمت سجھی جاتی ہے۔ بچہ ہو یابوڑھا سب بارش میں بھیگ کر خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ گھروں میں بارش کی مناسبت سے لذیذ پکوان بنائے جاتے ہیں۔ مگر سردیوں کی بارش کے لیے ہر شخص کی رائے الگ ہے۔ اکثریت کے نزدیک سردیوں کی بارش اداسی اور تنہائی کی عکاسی کرتی ہے۔ دسمبرسال کا آخری اور سرد ترین مہینہ ، اس مہینے میں ہونے والی بارش بھی اپنی تمام تر اداسی کے ساتھ برستی ہے۔ افسانہ نگاروں اور شعراء کا من پسند موضوع دسمبر کی بارش ہی ہوتی ہے جسے وہ اپنی نظموں اور افسانوں کا حصہ بناتے آئے ہیں ۔

؎ اسے کہنا دسمبر لوٹ آیا ہے 

جیسی کئی نظمیں جو دسمبر اور خصوصی طور پر دسمبر کی بارشوں میں اپنے بچھڑے ہوؤں کی یاد دلاتی ہیں ۔ انگریزی ادب میں بھی دسمبر کی بارش اپنی تمام تر اداسی اور سرد ماحول کی وجہ سی کافی مضامین اور نظموں کا حصہ ہے۔ دسمبر کی بارش صرف ادب ہی کا حصہ نہیں، بہت سے گلوکار بھی دسمبر کی بارش کے حوالے سے اداس نغمے گنگناتے نظر آتے ہیں۔ چاہے وہ ابرار الحق ‘ بھیگا بھیگا سا، یہ دسمبر ہے’ گا رہے ہوں ، یا راکی فریش ‘December Rain ‘ ۔ 

دسمبر کا مہینہ اور دسمبر کی بارش جہاں بہت سے لوگوں کو اداس کرتی ہے وہیں کچھ تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو اس بارش، ٹھنڈ، اداسی اور تنہائی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس موسم کو اداسی کے بجائے قدرت کی طرف سے عطا کردہ رحمت و نعمت سمجھتے ہیں۔ 

کیا آپ بھی دسمبر کی بارش میں اداس ہوتے ہیں یا اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s