Posted in Ghazal

Ghazal

​سوئی کی طرح جو چُبھتے ہے  اُسے اپنے کہتے ہیں
دیکھ کر بھی جو نظر انداز کرے اُسے اپنے کہتے ہیں
لوگ مثالِ وفا و ہمدردی دیتے ہیں اپنوں کی 
جو چھری پھیٹ میں گھونپے اُسے اپنے کہتے ہیں
رب کی طرف سے جو خوشی و نعمت ملے
تیری خوشی دیکھ کر جو جلتے ہیں اُسے اپنے کہتے ہیں
ہم جو غیر کے سامنے فخر کرتے تھے اپنوں پے 
اج ہماری جان کے دشمن جو بن گۓ اُسے اپنے کہتے ہیں
ہم اپنوں کو چھوڑ کر جو بہت دور چلے تھے 
اج ہم پے جو بہتان لگا رہے ہیں اُسے اپنے کہتے ہیں
 ادب, محبت و اخلاق کی وجہ سے ہم جوخاموش ہے
اج ہمیں کمزور جو سمجھ رہے ہیں اُسے اپنے کہتے ہیں
غیر کی ہمدردی و محبت اپ کے ساتھ دیکھ کر
اج راستے میں کانٹے جو بچھاتے ہیں اُسے اپنے کہتے ہیں
اسماعیل, لکھتے لکھتے تو کچھ لکھنا بھول گیا
وہ دن رات جو تیرا خیال رکھتے ہے اُسے بھی اپنے کہتے ہیں

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s