Posted in Ghazal

Ghazal 

​غزل

۔

تری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا

ھمیں تو شہر میں کوئی ترے جیسا نہیں ملتا

۔

یہ کیسی دھند میں ھم تم سفر آغاز کر بیٹھے

تمہیں آنکھیں نہیں ملتیں ھمیں چہرہ نہیں ملتا

۔

ھر اک تدبیر اپنی رائیگاں ٹھہری محبت میں

کسی بھی خواب کو تعبیر کا رستہ نہیں ملتا

۔

بھلا اُس کے دکھوں کی رات کا کوئی مداوا ھے؟

وہ ماں جس کو کبھی کھویا ھوا بچہ نہیں ملتا

۔

زمانے کو قرینے سے وہ اپنے ساتھ رکھتا ھے

مگر میرے لیے اُس کو کوئی لمحہ نہیں ملتا

۔

مسافت میں دعائے ابر اُن کا ساتھ دیتی ھے

جنہیں صحرا کے دامن میں کوئی دریا نہیں ملتا

۔

جہاں ظلمت رگوں میں اپنے پنجے گاڑ دیتی ھے

اُسی تاریک رستے پر دیا جلتا نہیں ملتا

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s