Posted in Ghazal

نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ھے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کے یہ جلوئے پرائے ہیں
میرے ہمراہ اب ہیں رسوائیاں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی یادوں کے سائے ہیں
تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s