محنت کی روزی، ایمان کی تازگی

صراط مستقیم کے مسافروں اور اﷲ کے محبوب نبی رسول اکرمؐ کے امتیوں کے لیے مقام فخر ہے کہ اپنے ہاتھ سے کما کر کھائیں۔ اسلامی حدود کے مطابق رزق کمانا انسان کو دین و دنیا میں سرخ رو کرتا ہے۔ کسب حلال کے باعث دنیا میں عزت ملتی ہے اور آخرت میں نجات ملے گی اور جنت کا حق دار ٹھہرے گا۔ اس لیے اﷲ کے بندوں کو اس سعادت سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی دنیا کا غلام بن کر کسب معاش میں اتنا محو ہوجانا چاہیے کہ آخرت کو بھول جائے جو تباہی اور ہلاکت کا باعث ہے اور ایسا بھی نہ ہو کہ فکر آخرت کی لگن میں کسب معاش سے بے نیاز ہوجائے۔ رزق حلال کمانے اور کھانے والوں کے لیے اﷲ اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے۔ دنیا میں باعزت رکھتا ہے۔ آخرت میں بلند درجات سے نوازتا ہے۔ روزی فضل خداوندی ہے اس لیے اﷲ کے فضل کو تلاش کرنا عین سعادت مندی ہے۔ مگر اﷲ کو چھوڑ کر مال و دولت کے حصول کا غلام بن جانا سب سے بڑی بدقسمتی اور ذلت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسانی معیشت فضل خداوندی کی مرہون منت ہے۔ کیوں کہ معاش کے تمام ذرائع جن سے کسب حلال میسر آتا ہے، اﷲ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں۔