Posted in urdu ghazal

Ghazal 

دہکتے دن میں عجب لطف اٹھایا کرتا تھا

میں اپنے ہاتھ کا تتلی پہ سایہ کرتا تھا

اگر میں پوچھتا بادل کدھر کو جاتے ہیں

جواب میں کوئی آنسو بہایا کرتا تھا

یہ چاند ضعف ہے جس کی زباں نہیں کھلتی

کبھی یہ چاند کہانی سنایا کرتا تھا

میں اپنی ٹوٹتی آواز گانٹھنے کے لئے

کہیں سے لفظ کا پیوند لایا کرتا تھا

عجیب حسرت پرواز مجھ میں ہوتی تھی

میں کاپیوں میں پرندے بنایا کرتا تھا

تلاش رزق میں بھٹکے ہوئے پرندوں کو

میں جیب خرچ سے دانہ کھلایا کرتا تھا

ہمارے گھر کے قریب ایک جھیل ہوتی تھی

اور اس میں شام کو سورج نہایا کرتا تھا

یہ زندگی تو مجھے ترے پاس لے آئی

یہ راستہ تو کہیں اور جایا کرتا تھا

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.