Posted in urdu ghazal

بہت سلیقے سے چیخ و پکار کرتے رہے

بہت سلیقے سے چیخ و پکار کرتے رہے

ہم اَپنے دَرد کے مرکز پہ وار کرتے رہے

زِیادہ عمر تو گاڑی گھسیٹنے میں کٹی

جہاں پہ ہو سکا ، قسطوں میں پیار کرتے رہے

سوادِ عقل میں مجنوں کی آبرو کے لیے

ہم ایک ہاتھ سے دامن کو تار کرتے رہے

کہیں کہیں پہ ہماری پسند پوچھی گئی

زِیادہ کام تو بے اِختیار کرتے رہے

تھی نیند مفت مگر یہ بھی خود کو دے نہ سکے

غذا کے نام پہ بس زَہر مار کرتے رہے

ٹرین چھُوٹی تو کتنے ہی عشق چھُوٹ گئے

تمام عمر نشستیں شمار کرتے رہے

اُداس رُت میں جو یادوں کا اُجڑا گھر کھولا

یقینی وعدے بہت سوگوار کرتے رہے

کبھی کبھی تو فقط چائے کی پیالی سے

خَزاں کی بوڑھی تھکن کو بہار کرتے رہے

بوقتِ زَخم شماری یہ راز فاش ہُوا

ہم اَپنی جیب سے کچھ بڑھ کے پیار کرتے رہے

ہزاروں خواہشوں کو دِل میں زِندہ گاڑ دِیا

پُلِ صراط کئی روز پار کرتے رہے

بہت سے لوگوں پہ قیسؔ اَچھا وَقت آیا بھی

ہمارے جیسے تو بس اِنتظار کرتے رہے
Twitter 
Facebook

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

One thought on “بہت سلیقے سے چیخ و پکار کرتے رہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.