Posted in urdu ghazal

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر


اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

حالات کی قبروں کے کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانیے کیوں تیز ہَوا سوچ میں گم ہے؟

خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اُس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے

وہ جھوٹ نہ بولے گا مرےسامنے آ کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے

ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے؟

تو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر
میں مر بھی چکا ، مل بھی چکا موجِ ہوا میں

اب ریت کے سینے پہ مرا نام لکھا کر
پہلا سا کہاں ہے مری رفتار کا عالم

اے گردش دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.