Posted in urdu ghazal

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں
جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں. 

جان ہم سبزۂ خط پر دے کر
زہر کے گھونٹ پیے بیٹھے ہیں

دل کو ہم ڈھونڈتے ہیں چار طرف
اور یہاں آپ لیے بیٹھے ہیں

واعظو چھیڑو نہ رندوں کو بہت
یہ سمجھ لو کہ پیے بیٹھے ہیں

گوشے آنچل کے ترے سینے پر
ہائے کیا چیز لیے بیٹھے ہیں

دست وحشت کو خبر کر دے کوئی
ہم گریبان سیئے بیٹھے ہیں

آپ کے ناز اٹھانے والے
جان کو صبر کیے بیٹھے ہیں۔

بَل جبیں پر ہے خدا خیر کرے
آج وہ تیغ لیے بیٹھے ہیں۔

اس توقع پہ کہ لیں وہ تلوار
سر ہتھیلی پہ لیے بیٹھے ہیں۔

جان دے دیں گے تمہارے در پر
ہم اب اٹھنے کے لئے بیٹھے ہیں۔

ذکر کیا جام و سبو کا کہ جلیلؔ
ایک مے خانہ پیے بیٹھے ہیں۔

Advertisements

Author:

simplicity is mine.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.