Posted in Urdu Magazine

بچوں کو موبائل فون ، ٹیب سے دور رکھیں


آج کل ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ٹیب وغیرہ اتنے عام ہیں کہ ہر چھوٹے بڑے کے ہاتھ میں نظر آتے ہیں۔ اور اس جنریشن کے بچے تو اتنے تیز ہیں کہ ابھی ان کی سکول جانے کی عمر بھی شروع نہیں ہوئی ہوتی لیکن وہ اپنے والدین کے سمارٹ فون چلانا سیکھ جاتے ہیں۔ اور اکثر والدین بھی فخر سے سب کو بتاتے ہیں کہ یہ ہمارا اتنا چھوٹا سا بچہ ابھی سے موبائل کے سارے فیچرز جانتا ہے اور کوئی بھی فون اس کے ہاتھ آئے تو اس کی مکمل جامع تلاشی لے ڈالتا ہے۔ بچے اس عمر میں بہت تیزی سے نئی چیزیں سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ان کے اندر مزید جاننے کا تجسس بڑوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ سمارٹ فون یا ٹیب پر انٹرنیٹ ایک لازمی چیز ہے اس کے بغیر تو کوئی بھی سمارٹ فون استعمال نہیں کرتا۔ اور بہت سی ویب سائیٹ ایسی ہیں جن پر ایسے اشتہارات یا موادموجود ہوتا ہے جو نا بالغ بچوں کے دماغ پر انتہائی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ اور بچے انجانے میں ایسے مواد سے بہت کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ  بچے زیادہ وقت موبائل یا ٹیب پر ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جسمانی اور صحت افزا کھیلوں سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کی نظر پر بھی کافی اثر پڑتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت چاہتے ہیں تو انھیں موبائل اور ٹیب سے دور رکھیں

Posted in Urdu Magazine

کیا آپ اپنے پارٹنر کو توجہ نہیں دیتے؟

دو لوگوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی میں بہت اہم ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر توجہ دیں اگر آپ کے پارٹنر آپ سے اس بات کی شکایت کرتے ہے کہ آپ ان پر توجہ نہیں دیتے تو آپ ان علامات سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔

1)آپ کو علم نہیں ہوتا کہ ان کی سارے دن کی کیا روٹین ہے

2)آپ کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ انھوں نے سارا دن کھایا کیا ہ

3)آپ ان کو لاحق ہونے والی پریشانیوں سے آگاہ نہیں ہوتے

4)آپ کو ان کی پسند ناپسند کا دھیان نہیں رہتا

5)آپ کو ان کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی چیزیں یاد نہیں رہتیں

اگر آُپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے تو جاگ جائیں اور اپنے پارٹنر پر توجہ دیں ورنہ۔۔۔