Emotional Urdu Petry

Wo hisab k Asool hta hoga

2 mein sy 1 niklo to 1 bachta hy

Mubhat k Asool kuch or hin yha 2 mein sy 1 nikalo to 1 be nhe Bachta

Advertisements

ﺁﺅ ﮐﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ

ﺁﺅ ﮐﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ

ﻣﯿﺮﯼ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﮐﺲ ﮐﺲ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﮨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ

ﺁﺅ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﮑﺘﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ

ﻣﺖ ﺁﺅ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﮕﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮍﭘﺘﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺑﮍﮮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﯾﺌﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ

ﺗﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮ

جانیےشہر کراچی کے بارے میں

دنیا میں موجود ہر شہر کی ایک اپنی ہی دنیا ہے ۔تہذیبیں تو ویسے قوموں کی یا ملکوں کی ہوا کرتی ہیں مگر کچھ شہر ایسے ہوتے ہیں جن کے نام سے ملک بھی پہچانے جاتے ہیں۔جیسے لندن اورروم جیسے شہر اپنے ملکوں کی واضع پہچان ہیں۔ٹھیک ویسے ہی کراچی کا نام بھی پاکستان کی پہچان ہے۔ 

کراچی (سندھی: ڪراچي) پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ کراچی کا شمار دنیا کے چند سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کی شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی کراچی میں قائم ہے۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستیوں میں سے ایک کا نام کولاچی جو گوٹھ تھا۔ انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے شہر میں لاکھوں مہاجرین کا دخول ہوا۔ پاکستان کا دارالحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔
کراچی دریائے سندھ کے دہانے کی شمالی حد پر واقع ہے۔ شہر ایک قدرتی بندرگاہ کے گرد وجود پایا۔ کراچی 52´ 24° شمال اور 03´ 67° مشرق پر واقع ہے۔
موسم اور محل وقوع
کراچی جنوبی پاکستان میں بحیرہ عرب کے عین شمال میں واقع ہے۔ شہر کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ ہے جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیاں ہیں۔ شہر کے درمیان سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیں، ملیر ندی اور لیاری ندی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر سے کئی اور چھوٹی بڑی ندیاں گزرتی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ چونکہ بندرگاہ ہر طرف سے زمین سے گھری ہوئی ہے اس ليے اس کو ایک بہت خوبصورت قدرتی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے۔

ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کا موسم بہت معتدل ہے۔ شہر میں بارشیں کم ہوتی ہیں، سال میں اوسطا 250 ملی میٹر، جن کا زیادہ تر حصہ مون سون میں ہوتا ہے۔ کراچی میں گرمیاں اپریل سے اگست تک باقی رہتی ہیں اور اس دوران ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ رہتا ہے۔ نومبر سے فروری شہر میں موسم سرما مانا جاتا ہے۔ دسمبر اور جنوری شہر میں سب سے زیادہ آرام دہ موسم کے مہینے ہیں اور اس وجہ سے شہر میں ان ہی دنوں میں سب سے زیادہ تقاریب اور سیاحت ہوتی ہے۔
ثقافت

کراچی پاکستان کے چند اہم ترین ثقافتی اداروں کا گھر ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد ہندو جیم خانہ میں قائم کردہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) کلاسیکی موسیقی اور جدید تھیٹر سمیت دیگر شعبہ جات میں دو سالہ ڈپلومہ کورس پیش کرتا ہے۔ آل پاکستان میوزیکل کانفرنس 2004ء میں اپنے قیام کے بعد سالانہ میوزک فیسٹیول منعقد کررہا ہے۔ یہ فیسٹیول شہری زندگی کے ایک اہم جز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور 3 ہزار سے زائد شہری اس میں شرکت کرتے ہیں جبکہ دیگر شہروں سے بھی مہمان تشریف لاتے ہیں۔

کوچہ ثقافت میں مشاعرے، ڈرامے اور موسیقی پیش کی جاتی ہے۔ کراچی میں قائم چند عجائب گھروں میں معمول کی بنیادوں پر نمائشیں منعقد ہوتی ہیں جن میں موہٹہ پیلس اور قومی عجائب گھر شامل ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر منعقدہ کارا فلم فیسٹیول میں پاکستانی اور بین الاقوامی آزاد اور دستاویزی فلمیں پیش کی جاتی ہیں۔ کراچی کی ثقافت مشرق وسطی، جنوبی ایشیائی اور مغربی تہذیبوں کے ملاپ سے تشکیل پائی ہے۔ کراچی میں پاکستان کی سب سے بڑی مڈل کلاس آبادی قیام پذیر ہے۔ کراچی صوبہ سندھ کا صدر مقام ہے۔
کپڑوں کی فروخت
کراچی پاکستان میں خریداری کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں روزانہ لاکھوں صارفین اپنی ضروریات کی اشیاء خریدتے ہیں۔ صدر، گلف شاپنگ مال، بہادر آباد، طارق روڈ، زمزمہ، زیب النساء اسٹریٹ اور حیدری اس حوالے سے ملک بھر میں معروف ہیں۔ ان مراکز میں کپڑوں کے علاوہ دنیا بھر سے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء حاصل کی جاسکتی ہیں۔ برطانوی راج کے زمانے کی ایمپریس مارکیٹ مصالحہ جات اور دیگر اشیاء کا مرکز ہے۔ صدر میں ہی قائم رینبو سینٹر دنیا میں چوری شدہ سی ڈیز کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔ دیگر اہم علاقوں میں پاپوش مارکیٹ اور حیدری شامل ہیں۔ ہر اتوار کو لیاقت آباد میں پرندوں اور پالتو جانوروں کے علاوہ پودوں کا بازار بھی لگتا ہے۔

کراچی میں جدید تعمیرات کے حامل خریداری مراکز کی بھی کمی نہیں جن میں پارک ٹاورز، دی فورم، ملینیم مال اور ڈولمین مال خصوصا قابل ذکر ہیں۔ اس وقت زیر تعمیر ایٹریم مال، جمیرہ مال، آئی ٹی ٹاور اور ڈولمین سٹی مال بھی تعمیرات کے شاہکار ہیں..!!

Main Hi Uska Sab Kuch Tha Wo Mujhe Kabi Na Bata Saka

” Main Hi Uska Sab Kuch Tha Wo Mujhe Kabi Na Bata Saka.
” Wo Meri Baat Na Samajh Saka Na Apni Mujhe Samjha Saka.
” Main Ne Jab B Jazbon Ki Us Se Baat Karna Chahi,
” Na Usne Meri Suni Na Apni Mujhe Suna Saka.
” Main Ne Uski Furkat Mein Saare Jahan Ko Bhula Dia,
” Wo Mera Phir B Hua Nahi Na Apna Mujhe Bana Saka.
” Waqt-e-Judai Mere Zabt K Daman Toot Gaye,
” Main Ne Us Se Lipat K Rona Chaha Wo Haath B Na Mila Saka.
” Aik Arsay Baad Wo Mila Mujhe Bs Itna Usne Kaha Mujhe,
” Na Tumse Pehle Koi Dil Mein Tha Na Tumhare Baad Koi Aa Saka…!

​Kash banane wale ne mjhe kitab bnaya hota

Kash banane wale ne mjhe kitab bnaya hota

Woh parhty parhty so jata mujhy seenay say lagaya hota,

Main ous k gum main roti or roti he jati
Os nay chupky say mujhy senay say lgaya hota.

Os ko dastaan suna suna k thak si gai
Kash uss nay b mujhy hal-a-dil sunya hota.

Main oss ka naam leti or subho sham leti tha.
Hay afsos os ny mujhy 1 bar bolaya hota.

Main oss ki khatr trpti rhi sham o sehar ~SI~
Arman na hota gar os ny 1 anso he bhaya hota.

پاکستان کے بڑے شہروں کے نام کیسے پڑے، دلچسپ اور حیران کن معلومات

اسلام آباد

1959ءمیں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

راولپنڈی:

یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

کراچی:

تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

لاہور:

ائک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا 

جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور‘ لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح سیوستان سبی اور شالکوٹ، کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔

     اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور

   ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔

حیدر آباد:

اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔ 

پشاور:

پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

کوئٹہ:

لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ:

            اس شہر کا نام ایک سکھ “ٹیکو سنگھ” کے نام پہ ہے “ٹوبہ” تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ “ٹوبہ ٹیک سنگھ” بھی اسی شہر سے منسوب ہے

سرگودھا:

         یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔

بہاولپور:

          نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ملتان:

کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ”کیساپور“ بتایا جاتا ہے۔

فیصل آباد:

اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

رحیم یار خاں:

بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔

عبدالحکیم

جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔

ساہیوال:

یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ”منٹگمری“ کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔

سیالکوٹ:

2 ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

گوجرانوالہ:

ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ”خان پور“ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔

شیخوپورہ:

مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ”شیخو“ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

ہڑپہ:

یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ”ہری روپا“ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ”ہری روپا“ کو ہڑپہ بنا دیا۔

ٹیکسلا:

گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا 

بہاولنگر:

        ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

مظفر گڑھ:

     والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ”خان گڑھ“ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

میانوالی:

          ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ”میانوالی“ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ڈیرہ غازی خان:

               پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

جھنگ:

        یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ”جھگی سیال“ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

​Phir Aaj Koi Ghazal Usk Naam Na Ho Jaye

Phir Aaj Koi Ghazal Usk Naam Na Ho Jaye

Aaj Kahin Likhte Likhte Sham Na Ho Jaye
Kar Rahe Hain Intezar Usk Izhar-e-Mohabbat Ka

Isi Intezar Mien Kahin Sham Na Ho Jaye
Nahi Laite Hain Uska Naam Sar?e Aam Is Darr Se

Kahin Naam Uska Badnamam Na Ho Jaye
Mangtay Hain Dua Jab Wo Yaad Atay Hain

K Judai Mere Pyar Ka Anjam Na Ho Jaye
Sochte Hain Aksar Darte Hain Tanhai Mien

Usk Dil Mie Kisi Aur Ka Mukam Na Ho Jay