Taluq Bad Mein Tabdeel hu kar jo be rhy Jaye

Taluq Bad Mein Tabdeel hu kar jo be rhy Jaye

Mubhat say Phala Muskrna Yad Rehta hai

Kisi ki Lac Bataien Aik Pal Mein Bhoul Jati hin

Kisi ka Aik Jumla be Purana Yad Rehta hai

Advertisements

Wo Waqt Tha Aisa K Juddai Zaroori Thi

“Wo Waqt Tha Aisa K Juddai Zaroori Thi.

“Mohabat Ki Zanjeeron Se Rihayi Zaruri Thi.

“Rasm-E- Mohabat Nibhayi Phr B ILzam Mila.
“Is Liye Mohabat Me Thori Be wafayi Zarori Thi.

“Bheer Me Reh Kr B Akelay Hi Rahay Hum.

“Zindagi Men Humari Tanhayi Zaroori Thi.

“Ek Ek Lafz Dhoond Kr Hum Ne Mukamal Ki Thi.

“Par Humari Kahani.

“Aaj B Adhoori hy,

“kal B adhoori thi,,

​وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں

وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں

جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ھوں

کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو

بھنور میں ڈوب جاتا ھوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ھوں

مجھے مانگے ھوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں

میں سورج کے گلے پڑتا ھوں بادل چھوڑ دیتا ھوں

تعلق یوں نہیں رکھتا……. کبھی رکھا کبھی چھوڑا

جسے میں چھوڑتا ھوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں

Facebook 

Ay Wada Shikan Khwaab

Ay Wada Shikan Khwaab Dikhana Hi Nahi Tha

Kyun Pyaar Kiya Tha Jo Nibhana Hi Nahi Tha.

Iss Tarha Mere Haath Se Daaman Na Chhudao

Dil Tod ke Jaana Tha To Aana Hi Nahi Tha.

Allah! Na Milne Ke Bahane Thay Hazaron

Milne Ke Liye Koi Bahana Hi Nahi Tha.

Dekho Mere Sar Phod Ke Marne Ki Adaa Bhi

Warna Mujhe Deewana Banana Hi Nahi Tha.

Rone Ke Liye Sirf Muhabbat Hi Nahi Thi

Gham Aur Bhi Thay Dil Ka Fasana Hi Nahi Tha.

Na Hum Sahi Kehte Naa Bani Dil Ki Kahani

Ya Gosh Bar’aawaz Zamana Hi Nahi Tha.

Nazim Koi Aaya Tha Meri Bakhya’gari Ko

Dekha Toh Garebaa Ka Thikana Hi Nahi Tha.

Click For More Urdu Poetry
Twitter 

Facebook 

YouTube 

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر


اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

حالات کی قبروں کے کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانیے کیوں تیز ہَوا سوچ میں گم ہے؟

خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اُس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے

وہ جھوٹ نہ بولے گا مرےسامنے آ کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے

ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے؟

تو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر
میں مر بھی چکا ، مل بھی چکا موجِ ہوا میں

اب ریت کے سینے پہ مرا نام لکھا کر
پہلا سا کہاں ہے مری رفتار کا عالم

اے گردش دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

بِچھڑا ہے جو اِک بار، تو مِلتے نہیں دیکھا

بِچھڑا ہے جو اِک بار، تو مِلتے نہیں دیکھا

اِس زخم کو ہم نے کبھی سِلتے نہیں دیکھا

اِک بار جسے چاٹ گئی دُھوپ کی خواہش

پھر شاخ پہ اُس پھول کو کِھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گِرا ہے، تو جڑیں تک نِکل آئیں

جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

کانٹوں میں گِھرے پُھول کو چُوم آئے گی، لیکن

تِتلی کے پَروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

کِس طرح مِری رُوح ہری کر گیا آخر

وہ زہر جسے، جسم میں کِھلتے نہیں دیکھا

پروین شاکر

بہت سلیقے سے چیخ و پکار کرتے رہے

بہت سلیقے سے چیخ و پکار کرتے رہے

ہم اَپنے دَرد کے مرکز پہ وار کرتے رہے

زِیادہ عمر تو گاڑی گھسیٹنے میں کٹی

جہاں پہ ہو سکا ، قسطوں میں پیار کرتے رہے

سوادِ عقل میں مجنوں کی آبرو کے لیے

ہم ایک ہاتھ سے دامن کو تار کرتے رہے

کہیں کہیں پہ ہماری پسند پوچھی گئی

زِیادہ کام تو بے اِختیار کرتے رہے

تھی نیند مفت مگر یہ بھی خود کو دے نہ سکے

غذا کے نام پہ بس زَہر مار کرتے رہے

ٹرین چھُوٹی تو کتنے ہی عشق چھُوٹ گئے

تمام عمر نشستیں شمار کرتے رہے

اُداس رُت میں جو یادوں کا اُجڑا گھر کھولا

یقینی وعدے بہت سوگوار کرتے رہے

کبھی کبھی تو فقط چائے کی پیالی سے

خَزاں کی بوڑھی تھکن کو بہار کرتے رہے

بوقتِ زَخم شماری یہ راز فاش ہُوا

ہم اَپنی جیب سے کچھ بڑھ کے پیار کرتے رہے

ہزاروں خواہشوں کو دِل میں زِندہ گاڑ دِیا

پُلِ صراط کئی روز پار کرتے رہے

بہت سے لوگوں پہ قیسؔ اَچھا وَقت آیا بھی

ہمارے جیسے تو بس اِنتظار کرتے رہے
Twitter 
Facebook