Ghazal 

دہکتے دن میں عجب لطف اٹھایا کرتا تھا

میں اپنے ہاتھ کا تتلی پہ سایہ کرتا تھا

اگر میں پوچھتا بادل کدھر کو جاتے ہیں

جواب میں کوئی آنسو بہایا کرتا تھا

یہ چاند ضعف ہے جس کی زباں نہیں کھلتی

کبھی یہ چاند کہانی سنایا کرتا تھا

میں اپنی ٹوٹتی آواز گانٹھنے کے لئے

کہیں سے لفظ کا پیوند لایا کرتا تھا

عجیب حسرت پرواز مجھ میں ہوتی تھی

میں کاپیوں میں پرندے بنایا کرتا تھا

تلاش رزق میں بھٹکے ہوئے پرندوں کو

میں جیب خرچ سے دانہ کھلایا کرتا تھا

ہمارے گھر کے قریب ایک جھیل ہوتی تھی

اور اس میں شام کو سورج نہایا کرتا تھا

یہ زندگی تو مجھے ترے پاس لے آئی

یہ راستہ تو کہیں اور جایا کرتا تھا

Advertisements

Agr Har Phool Ki Khushbu Lubhati Dil Ko

“”Agr Har Phool Ki Khushbu Lubhati Dil Ko.

“”Gulab Khass Na Hota Baharon Main.

“”Agr Her Koi Sath Deta Zamany Main.

“”To Tanha Chand Na Hota Sitaron Main.

“”Agr Wafa Hoti Khoun K Rishton Main.

“”To Yousuf Q Bikta Misser K Bazaron Main.

“”Muoqa Milty Hi Raasta Badalty Hain.

“”Ye Ada Khass Hai Aaj Kal K Yaron Main.

“”Shayd Hum B Khush-Nasib Hoty.

“”Agr Wo Apna Samjhty Humain Hazaron Main.. !!